نئی دہلی،15/ نومبر (آئی این ایس انڈیا) دہلی این سی آر میں آلودگی پر آج سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے دہلی حکومت پر پھرسوال اٹھایا۔ عدالت نے مرکز اور متعلقہ ریاستوں سے کہا ہے کہ وہ دہلی-این سی آر میں ایک ہفتے کے لاک ڈاؤن پر غور کریں۔ نیز پنجاب اور ہریانہ سے کہا گیا ہے کہ وہ کسانوں سے بات کریں اور پرالی جلانا بندکردیں۔ اس سے پہلے دہلی حکومت نے کہا تھا کہ وہ مکمل لاک ڈاؤن جیسا قدم اٹھانے کے لیے تیار ہے، لیکن نیشنل کیپٹل ریجن (این سی آر) کو بھی لاک ڈاؤن کی ضرورت ہے۔ دہلی آلودگی پر اب بدھ کو سماعت ہوگی۔دہلی حکومت نے اپنے حلف نامے میں کہا کہ دہلی حکومت آلودگی کو کنٹرول کرنے کے لیے مکمل لاک ڈاؤن جیسے اقدامات کرنے کے لیے تیار ہے۔ تاہم اس طرح کا اقدام اسی صورت میں فائدہ مند ہوگا جب پڑوسی ریاستوں کے این سی آر علاقوں میں بھی لاگو کیا جائے۔ دہلی کے کمپیکٹ سائز کو دیکھتے ہوئے، لاک ڈاؤن کا ہوا کے معیار کے نظام پر محدود اثر پڑے گا۔ تاہم اس طرح کا قدم اگر پڑوسی ریاستوں کے این سی آر علاقوں میں نافذ کیا جائے تو فائدہ مند ہوگا۔ درخواست گزار کی جانب سے وکاس سنگھ نے کہا کہ ہمارے پاس کچھ تجاویز ہیں۔ پنجاب میں کیس رپورٹس ٹھیک سے نہیں ہو رہے ہیں۔ پنجاب میں الیکشن ہیں اس لیے پرالی نہیں روکی جا رہی۔ انہوں نے کہا کہ تعمیراتی کام بند نہ کیا جائے۔ اسے کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک غیر جانبدار کمیٹی کی ضرورت ہے۔سپریم کورٹ کے چیف جسٹس (سی جے آئی) این وی رمنا نے اس پر کہاکہ ہم الیکشن جیسے معاملات میں نہیں جائیں گے۔ ہمارا سیاست اور الیکشن سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ یہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں۔ ہم یہ اس بات پر غورکریں گے کہ حالات کو کیسے قابو کرنا ہے۔ جسٹس چندر چوڑ نے کہا کہ اب جب مسئلہ سامنے کھڑا ہے تو ہم کچھ نیا نہیں کر سکتے۔ مرکز نے تفصیل سے حلف نامہ داخل کیا ہے، کہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اب ان کو عملی جامہ پہنانے کی ضرورت ہے۔